Mawani-e-Takfeer Urdu
موانعِ تکفیر
(کسی خاص کلمہ گو کو کافر قرار دینے میں احتیاطیں)
(کسی خاص کلمہ گو کو کافر قرار دینے میں احتیاطیں)
موانعِ تکفیر سے مراد وہ رکاوٹیں ہیں جو کسی مرتکبِ کفر شخص کو کافر ہونے سے بچاتی ہیں۔
اگر کوئی کفریہ قول یا فعل کسی مسلمان سے سرزد ہو جائے تو شریعت اس پر فوراً کافر ہونے
کا حکم نہیں لگاتی بلکہ کچھ توقف کرتی ہے۔ یعنی کسی مسلمان کے کفریہ قول و فعل کے باوجود اس کو فوراً
کافر نہیں کہتی۔ بلکہ اس صورت میں بھی چند باتیں ایسی ہیں جو اس کو کافر ہونے سے بچا سکتی ہیں، جن میں
سے اہم موانع کی طرف مختصر اشارہ یہاں کیا جاتا ہے۔
ا۔ عذرِ جہل
جہالت یعنی لاعلمی کا عذر کسی مسلمان سے
کفریہ قول یا کفرِ اکبر کا ارتکاب
ہو جانے کے باوجود بہت سی صورتوں میں خود اس مسلمان کو کافر قرار دینے
میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس بات کو تمام اہلِ علم نے
فتویٰ کے اصول و آداب میں نقل کیا ہے۔

ب۔ اکراہ یعنی مجبوری:
کسی کفر کو اختیار کرنے کے لیے جان سے مارنے یا جسم کے کسی بنیادی عضو کو تلف کرنے کی دھمکی دی جائے، اور غالب گمان بھی یہ ہو کہ اگر اس نے کلمۂ کفر نہیں کہا تو اسے قتل کر دیا جائے گا یا اس کے جسم کا کوئی بنیادی عضو تلف کر دیا جائے گا، تو ایسی صورت میں کلمۂ کفر کہنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر قائم اور مطمئن ہو۔
ج۔ تاویل کا عذر:
کسی مسلمان میں کفریہ چیز پائی جانے کے باوجود اس کو کافر قرار دیے جانے میں ایک رکاوٹ “تاویل” بھی ہو سکتی ہے۔ مثلا کسی کا یہ تاویل کرکے جمہوریت میں آنا کہ اگرچہ وہ اس نظام کو غلط سمجھتا ہے لیکن چونکہ اس کے خیال میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا، اس لیے وہ اس کے ذریعے سے شریعت لانے کی کوشش کرے گا۔
اگرچہ ہمیں اس تاویل سے اختلاف ہے اور اس تاویل کو غلط ثابت کرنے کے لیے درجنوں دلائل دیے جا سکتے ہیں، اور اگرچہ اس تاویل کے ساتھ بھی اس غلیظ کفریہ نظام میں شریک ہونا ایک سنگین جرم ہے، لیکن یہ تاویل بہت سی صورتوں میں جمہوریت میں شریک شخص کو کافر قرار دیے جانے سے روک دیتی ہے۔
اگرچہ ہمیں اس تاویل سے اختلاف ہے اور اس تاویل کو غلط ثابت کرنے کے لیے درجنوں دلائل دیے جا سکتے ہیں، اور اگرچہ اس تاویل کے ساتھ بھی اس غلیظ کفریہ نظام میں شریک ہونا ایک سنگین جرم ہے، لیکن یہ تاویل بہت سی صورتوں میں جمہوریت میں شریک شخص کو کافر قرار دیے جانے سے روک دیتی ہے۔

کسی پر کفر کا حکم لگانا آدمی کا کام نہیں:
بعض موانع تکفیر کا بیان ہم نے یہاں اختصار سے کردیا تا کہ ہمارے قارئین اس فرق کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ کتاب میں دی گئی ساری بحث بنیادی طور پر اس نظامِ جمہوریت و دینِ جمہوریت کا کفر ثابت کر رہی ہے۔ لیکن اس میں شریک متعین افراد یا جماعتوں پر حکم لگانا یہاں ہمارے پیش نظر نہیں۔ نیز جمہوریت کو کفر کہنے سے سیدھا یہ لازم نہیں آتا کہ اس میں کسی بھی سطح پر کسی بھی انداز سے شریک ہونے والے تمام لوگ ہمارے نزدیک بلا تفریق دین سے خارج ہوگئے ہیں۔ یہ نہ تو ہم نے کہا ہے اور نہ ایسی غیر محتاط اور مبنی بر غلو آراء اختیار کرنا مجاہدین کا طریقہ ہے۔ اس کتاب سے ایسا کوئی مفہوم اخذ کرنا ہر گز درست نہیں ہوگا۔
نبی کریم ﷺ کا یہ مبارک فرمان:
«إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»
“جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو یہ کفر ان دونوں میں سے ایک کی طرف لوٹے گا۔”103

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا يَجْتَمِعُ رَجُلَانِ فِي الْجَنَّةِ أَحَدُهُمَا قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ»
”دو مرد جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے جن میں سے ایک نے دوسرے مسلمان بھائی کو کافر کہا“۔105
پس اگر کوئی شخص کسی کفر میں مبتلا ہے تو عام آدمی اس وقت تک اس کو کافر نہ کہے جب تک علماء حق اس کے کافر ہونے کا فتویٰ نہ دیں، البتہ اس کفریہ عمل کو کفر ضرور کہا جائے گا۔
یوں تکفیر کی بحث کے اعتبار سے لوگوں کو ہم تین درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
| ا۔ عام مسلمان: | کسی بھی عام مسلمان کے لیے (خواہ مجاہد ہی کیوں نہ ہو) جائز نہیں کہ وہ ان مباحثِ کو پڑھ کر عام لوگوں پر یا کسی عالم پر کفر کے فتوے لگاتا پھرے۔ ایسا کرنا یقیناً اس کے ایمان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ لہٰذا غیر عالم کو صرف اتنا کرنا ہے کہ خود کو اور اپنے گھر والوں اور اقارب کو اس کفر سے بچانا، نہ کہ دوسروں پر حکم لگانا۔ |
| ب۔ عالم: | اہلِ علم حضرات خود کو اس کفر سے بچائیں اور جمہوریت کا کفر لوگوں کے سامنے بیان کریں۔ البتہ کسی خاص جماعت، افراد یا کسی عالم پر کفر کا حکم لگانا ہر عالمِ دین کا کام بھی نہیں کیونکہ اس کام کے لیے علم میں گہرائی و رسوخ کی ایک خاص سطح درکار ہے، جو کم کم علماء کو میسر ہوتی ہے۔ |


